مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی طور پر "Iran DBS" کے نام سے رجسٹرڈ اس سیٹلائٹ کو روسی موسمیاتی سیٹلائٹ کے ہمراہ پروٹون-ایم راکٹ کے ذریعے مدار میں پہنچایا گیا۔ یہ منصوبہ قومی میڈیا کے تکنیکی ڈھانچے کی ترقی میں ایک اسٹریٹجک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
انٹرایکٹو نشریات کی جانب اہم قدم
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے شعبۂ ترقی و ٹیکنالوجی کے مطابق ’’جامِ جم 1‘‘ انٹرایکٹو ریڈیو اور ٹی وی نشریات کے جدید نظام کے نفاذ کی جانب پہلا عملی اور تکنیکی قدم ہے۔
اس سیٹلائٹ کو اس مقصد کے تحت ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ صوتی اور بصری سگنلز کو زمینی نشریاتی اسٹیشنوں تک مؤثر انداز میں منتقل کر سکے۔
34 ڈگری مشرقی مدار میں تعیناتی
حکام کے مطابق آئندہ تین ہفتوں کے اندر سیٹلائٹ کو اس کی حتمی مداری پوزیشن 34 ڈگری مشرقی طول البلد پر منتقل کر کے مستحکم کیا جائے گا۔ یہ قومی نشریاتی ادارے کے لیے مؤثر اور وسیع تر کوریج فراہم کرے گا۔
خصوصی آلات کے بغیر سگنل وصول ممکن نہیں
حکام نے واضح کیا ہے کہ ’’جامِ جم 1‘‘ عام گھریلو ڈائریکٹ ٹو ہوم (DTH) سیٹلائٹس کی طرح نہیں ہے۔ اس کے سگنلز وصول کرنے کے لیے پیشہ ورانہ اور خصوصی آلات درکار ہوں گے، عام گھریلو ریسیورز کے ذریعے اس کی نشریات حاصل نہیں کی جا سکیں گی۔
اس منصوبے کو قومی میڈیا کی خلائی خودمختاری کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو ایران کے نشریاتی شعبے کو جدید خلائی بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد دے گا۔
آپ کا تبصرہ